Thursday, January 26, 2012

PakNationalists - میانمار میں پاکستانی شہنشاہ کی قبر


 

میانمار میں پاکستانی شہنشاہ کی قبر

 

پاکستان کے صدر نے برصغیر کے آخری مسلم حکمران کے مزار پر حاضری دی۔ دس صدیوں کی مسلمان شھنشاھیت نے پاکستان کو جنم دیا۔

 

Click here to read the English version of this report

 

پاک پرست خصوصی رپورٹ  | جمعرات | 26 جنوری 2012
PakNationalists۔com

 

 

پاکستانی حکومت اور میڈیا نے صدر آصف علی زرداری کے میانمار کے دورے کے ایک مخصوص پہلو پر توجہ مرکوز رکھی: میانمار کی اپوزیشن لیڈر سو کی کے ساتھ ملاقات۔ صدر کے لئے یہ موقع تھا کہ وہ اپنے بیٹے اور بیٹی کو میڈیا کے سامنے پیش کریں اور اپنے آپ کو برما کی اپوزیشن لیڈر کے برابر کے جمہوری رہنما کے طور پر خود کو پیش کریں۔

 

یہ ملاقات دراصل پاکستانی حکومت کی طرف سے ایک پراپیگنڈہ مھم تھی، جسے انگریزی میں 'پبلک رلیشنز سٹنٹ' کھتے ہیں۔ پاکستان کو میانمار کے اندرونی معاملات میں مداخلت نھیں کرنی چاھیئے۔ ایک شبہ ہے کہ صدر زرداری کی برما کی اپوزیشن لیڈر سے ملاقات ان کی حکومت کا امریکی نواز ہونے کا اسناد ہے، اور یہ انھونے امریکیوں کو خوش کرنے کیلیئے کیا۔

 

اگرچہ صدر زرداری کی طرف سے میانمار کے ساتھ ہمارے تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش قابل ستائش ہے، ان کے دورے کا یہ حصہ زیادہ تر پاکستانیوں کیلیئے کسی اھمیت کا حامل نھیں تھا۔

 

میانمار میں اپنے قیام کے دوران کہیں زیادہ اہم بات صدر زرداری کی بہادر شاہ ظفر، مغل خاندان کے آخری بادشاہ، کے مزار پر حاضری ہے۔ مغلیہ سلطنت برطانوی قابضوں کے ہاتوں 1857 میں زوال پذیر ہوئی تھی۔ یہ بھت بڑا تاریخی واقعہ تھا جب برصغیر میں مسلم حکمرانیت ختم ہوئی۔ ان مسلمانوں کی نسل آج پاکستان کی صورت میں موجود ہے۔ مغلیہ سلطنت کا دار الخلافہ پرانا دلی تھا جسے آج بھارت کے نیو دلھی کے نام سے جانا جاتا ہے۔

 

مسلم سلطنت کے خاتمے کے بعد پاکستان تحریک آزادی کا سلسلہ شروع ہوا اور 90 سال کے اندر پاکستان آزاد ہوا۔

 

پاکستان کی شاھی تاریخ

 

صدر آصف علی زرداری نے مغلیہ بادشاہ کے مزار کے دیکھ بھال کے لئے پچاس ھزار ڈالر کا عطیہ دیا ہے۔

 

پاکستانی صدر کی طرف سے یہ چھوٹا سا اقدام بھت بڑی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ اچھا موقع ہے کہ ہم مختصراً اپنے قارئین کے ساتھ پاکستانی قومیت اور پاکستانی قوم کی تاریخ کی یاد تازہ کریں۔

 

اس مختصر سی تاریخ کو سمجھنا جدید پاکستان کو سمجھنے کیلیئے کلید ہے۔

 

پاکستان مغلیہ اور دیگر مسلمان سلطنتوں کی پیداوار ہے بلکل اسی طرح جیسے ترکی عثمانی سلطنت اور ایران صفوی سلطنت کے پیداوار ہیں۔

 

پاکستان خطے میں برطانوی قبضے کے نتیجے میں پیدا نھیں ہوا تھا۔ درحقیقت پاکستان وسطی ایشیا اور برصغیر میں دس صدیوں کی مسلمان بادشاھاتوں کا نتیجہ ہے۔

 

اس تاریخ کے تناظر میں پاکستان کی آزادی ناگزیر تھی، اور اسکی آزادی کا وقت قائد اعظم محمد علی جناح کی عظیم قیادت میں 1947 میں طے پایا۔

 

پاکستانی وہ قوم ہے جس کی ثقافت اور تھذیب دس صدیوں میں تشکیل پائی۔

 

اگرچہ شھنشاھیت کی تاریخ 1857 میں زوال پائی، لیکن ہم نے پاکستان کو 90 سالوں میں حقیقت میں تبدیل کردیا۔

 

14 اگست 1947 میں پاکستانیوں نے برطانوی قبضے کو ختم کیا اور اس خطے میں اپنی دس صدیوں پر مشتمل تاریخ کو لے کر ایک جدید دور میں داخل ہوئے۔ پاکستانی تھذیب نے اپنے عروج پر شاندار ثقافت کو پیدا کیا، یہ ثقافت اور ادب تین زبانوں پر مبنی تھی:  فارسی ، ترکی اور عربی۔ یہ ثقافتی ورثہ آج بھی اردو اور دیگر مقامی پاکستانی زبانوں میں موجود ہے اور اس عظیم ثقافت کے نشان آج بھی دنیا کے توجہ کا مرکز ہیں۔ [تاج محل بھارت میں اور دیگر بے شمار شاندار تاریخی عمارتیں جو آج پاکستان میں کھڑی ہیں]۔

 

پاکستان ایک لمبی کہانی ہے جو 1947 میں ایک نئے دور میں داخل ہوئی اور ایک نیا باب رقم کیا۔

 

یہ ہے مختصراً وہ پیغام جوصدر پاکستان نے برما میں آخری مغل بادشاہ کے مزار پر حاضری دے کر دنیا کو دیا۔

 

 

© 2007-2012. All rights reserved. PakNationalists.com
Verbatim copying and distribution of this entire article is permitted in any medium
without royalty provided this notice is preserved.

YOUR comment IS IMPORTANT 
Do NOT underestimate the power of your comment
Please
click here to comment   or to read what others have said about this story. 
 

Subscribe to our PakNationalists Group to receive regular updates. Join this group using your
Gmail account, or email us at PakNationalists@gmail.com to add you to the mailing list

Follow PakNationalists On FACEBOOK and TWITTER

PakNationalists Channel on YouTube 

 

0 comments:

Post a Comment

Related Posts with Thumbnails